اہلِ بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لیبیا کے مفتیِ اعظم شیخ صادق الغریانی نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان مختلف علاقائی اور دوطرفہ اتحاد تو موجود ہیں، لیکن فلسطینی عوام کی جان و مال، عزت اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے کوئی حقیقی مشترکہ اتحاد نظر نہیں آتا۔
شیخ صادق الغریانی نے کہا کہ مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ ضروری اتحاد قائم کرنے کے بجائے ایسے دوسرے اتحادوں میں مصروف ہو گئے ہیں جو عالمِ اسلام کے بڑے مسائل کے حل میں مددگار نہیں ہیں۔
لیبیا کے مفتیِ اعظم نے بالخصوص سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد مسلمانوں کو اسرائیل کے خلاف متحد کرنے کے بجائے آپس میں لڑائی کی طرف دھکیلنا ہے۔
عرب جرنل کے حوالے سے ابنا نے لکھا ہے کہ یہ بیان سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے پر بڑھتی ہوئی تنقید کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ یہ اتحاد خطے میں امریکی بالادستی اور اسرائیل کی مخالفت کرنے والی قوتوں، بالخصوص یمن، کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے پر 7 اگست 2026 کو دستخط کیے گئے تھے۔ تقریب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف شریک تھے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
تاہم، خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، معاہدے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی رکن پر حملے کی صورت میں دوسرے ممالک پر کس نوعیت کی ذمہ داریاں عائد ہوں گی یا ان سے کس طرح کی فوجی کارروائی کی توقع کی جائے گی۔ یہ نکتہ معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات میں شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ